مردِ انقلاب " مولانا ہدایت الرحمن": اورنگ زیب نادر

کوئی تبصرے نہیں

  


تحریر: اورنگ زیب نادر

اس وقت بلوچستان بالخصوص مکران کے عوام چند ایسے مسائل سے دوچار ہیں جو خودساختہ ہیں 'جوکہ ہمارے حکمرانوں اورریاست کی پیداکردہ ہیں۔مکران کے زیادہ تر لوگوں کی ذریعہ معاش ایران کے بارڈر سے وابستہ ہے لیکن اب اس ذریعہ معاش کو بند کیاگیاہے۔ ٹرالر مافیا جو گوادر کے لوگوں کی حق تلفی کررہے ہیں ۔ بلوچستان میں جگہ جگہ چیک پوسٹ نظر آتے ہیں اس کے باوجود دن بدن واردات میں اضافہ ہوتا جارہاہے ، یہ سب صرف اور صرف عوام کو تنگ کرنے کا ڈرامہ رچایا جارہاہے۔

ایسا لگتا ہے کہ ہم ایک ملک سے دوسرے ملک میں جارہے ہیں ' روک کر پوچھا جاتاہے کہ "کہا ں سے آرہےہو اور کہاں جارہےہو" ایسا محسوس ہوتاہے کہ ہم مقبوضہ علاقے میں ہیں۔ یہاں کے لوگ  کئی مسائل سے دوچار ہیں۔ ان سب مسائل کو مدنظر رکھتےہوئے مولانا ہدایت الرحمن نے ایک تحریک کا آغاز کیا جو "حق دو گوادر" کے نام سےہے۔

مکران میں ہر ایک قوم پرستی کا دعوی کرتاہے لیکن آج تک کسی نے عوام کے لئے آواز بلند نہیں کی ہے لیکن مولانا ہدایت الرحمن واحد شخص ہے جس نے عوامی مسائل کے حل کے لیے آواز بلند کی ہے۔

گزشتہ 11 روز سے گوادر میں دھرنا جاری ہے مطالبات نہ منظور ہونے تک دھرنا جاری رہےگا،گوادر کے لوگ صدیوں سے سمندر سے مچھلی پکڑ رہےہیں اور ان کا روزگار اسی سمندر سے وابست ہے لیکن اب اس کو ٹوکن سسٹم کیاہے اب عوام ماہی گیر مچھلی پکڑ نہیں سکتےہیں۔



مولانا ہدایت الرحمن نے جومطالبات کیے ہیں ان میں 


چند اہم مطالبات درج ذیل ہیں


1_لاپتہ افراد کی بازیابی

2_اورماڑہ گودار سے جیوانی تک سمندر میں غیرقانونی طور پر غیر ملکی ٹرالرنگ پر پابندی

3_ٹوکن ںطام کا خاتمہ

4_ہر ماہی گیر کو آزادانہ طور پر سمندر میں شکار کرنے کی آزادی

5_گودار میں تمام شراب خانوں کے لائسنس کی منسوخی

6_ایران بارڈر پر کسٹم اور کوسٹ گارڈ گوادار کے عوام کو اشیائے خورونوش لانے کی آزادی 

7_کوسٹ گارڈ اور کسٹم کی جانب سے ضبط کی گئی تمام کشتیوں اور گاڑیوں کی مالکان کو واپسی

8_دربیلہ ، زیارت مچھی، نگور، پشکان اور جیوانی کے علاقوں کو پانی کی فراہمی

9_سی پیک کے تحت گودار بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ملازمین اور دیگر علاقوں کے ملازمین کی برابر مزدوری

10_گودار کے بے روزگار نوجوانوں کو زیادہ سے زیادہ ملازمت کی فراہمی

کیا یہ مطالبات ناجائرز ہیں؟ اگر نہیں تو ان پر عملدرآمد کیوں نہیں کیاجارہاہے؟میرے خیال میں یہ سب جائز مطالبات ہیں جو عوام کی بھلائی کے لئے ہیں۔



اس دور میں مفاد پرست لوگوں کی برمارہے ہر کوئی مفاد کے پیچھے دوڑ رہاہے لیکن مولانا ہدایت الرحمن نے مفاد کا نہیں بلکہ عوام کی فلاح کے لئے سوچا ہے اور جدوجہد کررہےہیں۔

مولانا ہدایت الرحمن کی جرات کو سلام کہ اس نے ایک ایسا قدم اٹھایا شایداس سے پہلے کسی نے نہیں کیاہے ۔ عوام بھی داد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے مولانا پر اعتماد کرکے ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں

ایک تبصرہ شائع کریں