ارشاد عارف ایک مسیحا: اورنگ زیب نادر

کوئی تبصرے نہیں

 


تحریر: اورنگ زیب نادر

دنیا میں 7 ارب سے زائد انسانی   آبادی ہے جس میں ہر طرح کے لوگ ' قوم، مزاج، مذہب ،قبیلے، اچھے اور برے لوگ پائےجاتےہیں لیکن اس دنیامین اسانیت دوست لوگوں کی بہت کمی ہے زیادہ تر لوگ صرف اپنی ذات کے لئے سوچتےرہتےہیں اور اپنے آپ تک محدود رہتےہیں لیکن اس کائنات میں دردِ دل رکھنے والے انسان بھی آباد ہیں ایسا ہی ایک نوجوان جو ارشاد عارف کے نام سے جاناجاتاہے۔

ارشاد عارف مکران کا پہلا نوجوان ہے جس نے تھیلسیمیا کے مریض بچوں کے درد کو محسوس کیا اور ضلع کیچ میں کیچ تھیلسیمیا کیئر سنٹر کے نام سے ایک سنٹر قائم کیا ۔ یہ سنٹر مکران ڈویژن کا پہلا سنٹر ہے جس کے ذریعے ہزاروں تھیلسیمیا کے مریض مستفید ہورہےہیں۔

 بانی کیچ تھیلسیمیا کیئر سنٹر جناب ارشاد عارف

آج کے اس نفسا نفسی کے دور میں اور بلامعاوضہ انسانیت کے لئے کام کرنا کسی معجزے سے کم نہیں لیکن ارشاد عارف اور ان کی ٹیم نے یہ کرکے دکھایا ہے  کہ اس جہان میں انسانیت دوست لوگوں کی بھی کمی نہیں ہے۔

ضلع کیچ میں تھیلسیمیا کے مریضوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور دن بدن تعدار میں اضافہ ہوتاجارہاہے۔کیچ میں 500 سے زائد تھیلیسیمیا کے مریض ہیں جن کی تشخیص ہوئ ہے نہ جانے کئی ایسے ہونگے جن کو اب تک پتہ ہی نہیں ہے۔ ان میں سے 250 کیچ تھیلیسیمیا کیئرسینٹر میں رجسٹرہیں۔ان کو ہر ہفتہ خون کی ضرورت ہوتی ہے اور ساتھ ہی ان کو علاج کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔اگر دیکھا جائے تو ایک مریض کو مہینے میں 3 سے 4 مرتبہ خون لگانے پڑتے ہیں اگر 250 مریضوں کا مہینے کے حساب سے لگائیں تو ایک بڑی تعداد بنتی ہے یعنی ایک مہینے میں 1000 بوتل خون درکار ہوتی ہے جو ایک بڑی مانگ ہے لیکن ارشاد عارف اور ان کی ٹیم نے کئی علاقوں میں خون عطیہ کیمپ کا انقعاد کیاجاچکاہے۔

کیچ تھیلسیمیا کیئر سنٹر کی ٹیم کی تصویر

کچھ عرصہ قبل میں اپنے ایک عزیزکی عیادت کرنے گیا جو خون کی ایک بیماری میں مبتلا ہے ان کو وقتا فوقتاخون کی ضرورت ہوتی ہے ان کا کہنا تھا پہلے میں خون کے لئے بھاگتا رہتاتھا حتیٰ کہ میں ذہنی مریض ہوتاجارہاتھا لیکن اب جب بھی خون کی ضرورت ہوتی ہے تو میں کیچ تھیلیسیمیا کیئر سینٹر میں رجوع کرتاہوں اور مجھے  خون فراہم کرتےہیں ایسے کئی مریض ہیں جو اس تنظیم کی بدولت فیضیاب ہورہےہیں۔

پہلے تھیلسیمیا کے مریض اور ان کے گھر والے ہر وقت پریشان رہتےتھے کیا میرے بچے کو خون ملے گا یا نہیں.ہر وقت خون کی تلاش میں تھے۔ لیکن الحمداللہ ارشاد عارف اور ان کی ٹیم کی بدولت ان کو اب بروقت خون فراہم کیا جاتاہے وہ بھی بالکل فری۔

پہلے تھیلسیمیا کے بچے خون کے کشمکش میں رہے کہ تعلیم سے محروم تھے آج ارشاد عارف کی بدولت سے یہ بچے سکولوں میں زیرتعلیم ہیں۔اپنی زندگی عام انسانوں کی طرح بسر کررہےہیں۔ میں ارشاد عارف اور ان کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتاہوں

آخر میں، میرا آپ سب سے التماس ہیکہ براہ کرم اس تنظیم کی بھرپور تعاون ، مدد اور خون کا عطیہ وقتا فوقتا کرتے رہیں  آپ کے خون ان بچوں کی زندگی کا شمع اور چہرہ پر مسکراہٹ کا سبب بن سکتاہے

کوئی تبصرے نہیں

ایک تبصرہ شائع کریں